Showing posts with label Daily News. Show all posts
Showing posts with label Daily News. Show all posts

Sunday, 1 March 2015

بھنے ہو ئے چنے کھانے سے وزن کنٹرول میں رہتا ہے

    کراچی(نیوزڈیسک)بڑھتے ہوئے وزن سے اکثر لوگ پریشان رہتے ہیں لیکن کیا ہی اچھا ہو کہ ایک ایسی خوراک مل جائے جو ہم بیٹھے بیٹھے کھاتے بھی رہیں اور ساتھ ساتھ وزن بھی کنٹرول میں رہے۔ 
    ایک ایسی ہی خوراک بھنے ہوئے چنے ہیں جن کے کھانے سے ناصرف وزن کم ہوتا ہے بلکہ اس سے جسم کو آئرن بھی ملتا ہے۔ اس کے علاوہ چنے کھانے سے جسم کا کولیسٹرول 

    پیشاب روک کر رکھنے کے مردانہ طاقت پر حیرت انگیز اثرات،امریکی ماہر نے ناقابل یقین دعویٰ کر دیا

      نیویارک (نیوز ڈیسک) سرعت انزال کی بیماری مرد کیلئے حسرت اس کی شریک حیات کیلئے سخت مایوسی اور عدم اطمینان کا باعث بن سکتی ہے مگر ایک امریکی ماہر جنسی صحت نے اس تکلیف دہ مسئلے کا نہایت سادہ حل تجویز کردیا ہے۔
      ازدواجی صحت کی ماہر مارنی کنرائس کا کہنا ہے کہ جو مرد مخصوص وقت کو طویل کرنا چاہتے ہیں وہ پیشاب کو روکنے کی مشق کریں اور روزانہ چند بار یہ مشق کرنے سے نہایت حیرت انگیز نتائج سے لطف اندوز ہوں۔ انٹرنیشنل سوسائٹی آف سیکچوئل میڈیسن کے مطابق ایک منٹ سے پہلے انزال ہوجانا سرعت انزال کہلاتا ہے۔ مارنی کہتی ہیں کہ اگر دوران پیشاب اسے تین سے پانچ سیکنڈ روک کر رکھا جائے اور پھر جاری کردیا جائے تو مثانے اور انزال کو کنٹرول کرنے والے PC عضلات یا کیگل عضلات متحرک ہوجاتے ہیں جسم کے دیگر پٹھوں کی طرح کیگل پٹھے بھی ورزش سے طاقتور ہوجاتے ہیں۔ جب یہ پٹھے مضبوط ہوجائیں تو مرد انزال کو بھی اپنی مرضی سے کنٹرول کرسکتا ہے۔ دوران پیشاب چند بار روکنے اور جاری کرنے کی مشق کی جاسکتی ہے۔ اسے تقریباً 5 سیکنڈ کیلئے روک کر رکھیں اور پھر جاری کردیں۔ اسی طرح یہ مشق دیگر اوقات میں بھی کی جاسکتی ہے۔ آپ کسی بھی وقت یہ ورزش کرنے کیلئے جسم کے نچلے حصے کے پٹھوں کو (مثانے کو کنٹرول کرنے والے پٹھے) اسی طرح سکیڑین جیسے آپ پیشاب روکنے کیلئے ہیں۔ ابتدائی طور پر پٹھوں کو 5 سیکنڈ کیلئے سکیڑ کر رکھنے کی مشق کریں اور پھر دورانیہ بڑھاتے جائیں۔ مارنی کہتی ہیں کہ ان کی تحقیق سے ثابت ہوچکا ہے کہ تین ماہ تک روزانہ یہ ورزش متعدد بار کرنے سے مخصوص وقت میں 4 گناہ اضافہ ہوسکتا ہے۔ وہ تجویز کرتی ہیں کہ اس ورزش کو روزانہ چند بار سے شرع کرکے تقریباً 50 بار روزانہ تک لے جائیں اور سرعتِ انزال کو ہمیشہ کیلئے بھول جائیں۔

      Saturday, 28 February 2015

      سعودی عرب میں بھارتی اور پاکستانی شہری کے سر قلم


      جدہ (قدرت نیوز)سعودی عرب میں ایک بھارتی اور ایک پاکستانی شہری کے سر قلم کر دیے گئے۔ اس طرح اس سال سعودی عرب میں اب تک سر قلم کرتے ہوئے دی جانے والی موت کی سزاوٴں کی کْل تعداد چونتیس ہو گئی ہے۔سعودی عرب کی سرکاری پریس ایجنسی نے وزارتِ داخلہ کے ایک بیان کے حوالے سے بتایا ہے کہ وِجے کمار سلیم کا تعلق بھارت سے تھا اور اْسے ایک یمنی شہری کو سر میں کلہاڑی مار کر قتل کرنے کے الزام میں موت کی سزا سنائی گئی تھی۔بتایا گیا ہے کہ سلیم اور اْس یمنی شہری کے درمیان جھگڑا اْس فارم پر ہوا تھا، جہاں یہ دونوں کام کرتے تھے۔ سعودی پریس ایجنسی کے مطابق وِجے کمار سلیم کی سزائے موت پر عملدرآمد دارالحکومت ریاض میں کیا گیا۔جبکہ ہیروئن اسمگل کرنے کے الزام میں ایک پاکستانی شہری حافظ وفاق رسول شاہ کا سر بھی قلم کیا گیا۔ اْس کی سزا پر عملدرآمد مدینہ میں کیا گیا۔ وزارتِ داخلہ کے ایک الگ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس پاکستانی شہری کے خلاف جو تحقیقات کی گئیں، اْن کے نتیجے میں اِس نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا تھا، جس کے بعد اْس پر مقدمہ چلایا گیا اور موت کی سزا سنائی گئی۔سعودی عرب میں منشیات کی اسمگلنگ کے لیے موت کی سزا کا قانون ہیسعودی عرب میں منشیات کی اسمگلنگ کے لیے موت کی سزا کا قانون ہے ،سعودی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ہر طرح کی منشیات کے خلاف جدوجہد کا تہیہ کیے ہوئے ہے کیونکہ یہ انسانوں کو جسمانی طور پر بھی اور سماجی طور پر بھی نقصان پہنچاتی ہیں۔ مزید یہ کہ قتل کے واقعات میں سزائے موت کا مقصد سکیورٹی کو برقرار رکھنا اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنا ہے۔سعودی عرب میں جو سخت شرعی قوانین رائج ہیں، اْن کے تحت منشیات کی اسمگلنگ، آبرو ریزی، قتل، ارتداد اور ڈاکے کے لیے موت کی سزا دی جاتی ہے۔رواں ہفتے بدھ کے روز حقوقِ انسانی کی علمبردار بین الاقوامی تنظیم ایجنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا کہ موت کی یہ سزائیں اکثر ’مقدمات کی غیر منصفانہ سماعت‘ کے بعد دی جاتی ہیں۔ایمنسٹی کے مطابق ایسے الزامات بھی ہیں کہ کچھ ملزمان کو تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے یا پھر کسی اور طریقے سے مجبور کرتے ہوئے اْن سے زبردستی اعترافِ جرم کروایا گیا۔ اعداد و شمار کے مطابق جہاں 2013ء میں سعودی عرب میں 78 افراد کی موت کی سزاوٴں پر عملدرآمد ہوا تھا، وہاں 2014ء میں یہ تعداد بڑھ کر 87 ہو گئی۔ رواں سال کے دوسرے مہینے میں ہی یہ تعداد چونتیس تک پہنچ چکی ہے۔

      انوکھا واقعہ،خوبرو دوشیزہ شہری کو ادائیں دکھاکر'مردانگی'ہی چراکر لے گئی اور پھر۔۔۔

        ماسکو (نیوز ڈیسک) آج کل چوری چکاری کی وارداتیں ہر جگہ بہت عام ہیں مگر ایک روسی ٹی وی اداکار کے ساتھ ایک ایسی واردات ہو گئی ہے کہ جسے الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔
        دمتری نیکولیو روس میں ایک مقبول ٹی وی اداکار کی حیثیت سے شہرت رکھتے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دمتری کی ملاقات ایک شراب خانے میں ایک خوبرو گوری حسینہ سے ہوئی جس نے انہیں اپنے ساتھ شراب نوشی اور وقت گزارنے کی پیشکش کی۔ اداکار شادی شدہ ہیں لیکن حسینہ کی پیشکش کو انکار نہ کر پائے اور اس کے ساتھ روانہ ہو گئے۔ دونوں نے کچھ گھنٹے ساتھ گزارے اور اس دوران شراب نوشی بھی کی جس کے باعث اداکار بے ہوش ہو گئے۔ 
        انہیں اگلے دن ہوش آیا تو وہ سڑک کنارے لیٹے ہوئے تھے اور انہیں شدید درد کا احساس ہو رہا تھا جبکہ ان کی پتلون خون میں لت پت تھی۔ دمتری کو فوری طور پر ہسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے یہ اندوہناک خبر سنائی کہ ان کے تولیدی اعضاءچوری کر لئے گئے ہیں۔ مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ اعضاءچوروں نے کسی ماہر ڈاکٹر کی طرح آپریشن کیا تھا اور اس خدشے کا اظہار کیا گیا ہے کہ حسینہ اور اس کا تعلق کسی منظم گینگ سے ہے جو مردوں کے مخصوص اعضاءچوری کر کے فروخت کرتا ہے اور اس میں تجربہ کار ڈاکٹروں کے شامل ہونے کا شبہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ 
        ہسپتال میں ڈاکٹروں نے بتایا کہ جب اداکار کو یہ افسوسناک خبر سنائی تو وہ کئی گھنٹے تک سکتے کی حالت میں رہے اور جب ان کے حواس بحال ہوئے تو وہ بار بار یہ کہتے رہے کہ وہ لوگوں کو کیا بتائیں گے کہ ان کے ساتھ کیا ہوا ہے۔ پولیس خطرناک گینگ کے بارے میں تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے تاہم تاحال اس کے کسی رکن کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی جا سکی ہے۔

        زیادہ بچے پیدا کرنیوالے فائدے میں رہیں گے


        نیویارک ( قدرت نیوز) والدین بننا صرف ذہنی خوشی کا باعث ہی نہیں بنتا بلکہ یہ مرد وخواتین کو زیادہ محنتی اور فائدہ مند کام کرنے والا بھی بنادیتا ہے یہ دعویٰ ایک نئی امریکی تحقیق میں سامنے آیا ہے تحقیق کے مطابق ایک یا اس سے زائد بچے کسی کو بھی اپنے کیرئر میں سخت محنت اور بہتر کام کی حوصلہ افزائی کا سبب بنتے ہیں اسی طرح 2بچوں کو مائیں اپنے کام بہترین انداز میں کرتی ہیں امریکی فیڈرل ریزروبینک کی تحقیق کے مطابق ایک بچے کا باپ بننے کے بعد مرد حضرات اپنے کنوارے ساتھیوں جتنی کارکردگی ہی دکھاتے ہیں تاہم یہ تعاد بڑھتے ہی ان کی محنت نمایاں ہوجاتی ہے اور وہ اپنی کمپنیوں کے زیادہ فائدہ مند ہوجاتے ہیں تاہم مردوں کے مقابلے میں خواتین پر بچوں کی پیدائش کے بعد سب سے نمایاں اثرات مرتب ہوتے ہیں کیونکہ ان کے کام بھی بڑھ جاتے ہیں

        سام سنگ گلیکسی S6کی قیمت کتنی ہو گی؟تفصیلات منظر عام پر آ گئیں

          سیول (نیوز ڈیسک) سام سنگ کے تازہ ترین ماڈلز گلیکسی S6 اور S6 ایج کے منظر عام پر آنے میں اب ایک ہفتے سے بھی کم رہ گیا ہے اور ایسے میں ان فونز کی قیمت کی خفیہ معلومات سامنے آجانا شائقین کے لئے دلچسپ سرپرائز کی حیثیت رکھتا ہے۔
          سام سنگ اپنے نئے ماڈلز مارچ کے آغاز میں سپین کے شہر بارسلونا میں متعارف کروائے گا لیکن ٹیکنالوجی ویب سائٹ Ars Technica نے ان کی قیمت کا پہلے ہی انکشاف کردیا ہے۔ ویب سائٹ کے مطابق دونوں ماڈلز کو تین قسم کی مختلف سٹوریج گنجائش کے ساتھ متعارف کروایا جائے گا۔ یہ تین اقسام اور ان کی قیمت درج ذیل ہے:
          32جی بی S6 کی قیمت 849ڈالر (تقریباً84900پاکستانی روپے) ہوگی، جبکہ S6ایج کی قیمت 963 ڈالر (تقریباً 96300پاکستانی روپے) ہوگی۔
          64جی بی S6 کی قیمت 963ڈالر(تقریباً 96300پاکستان روپے)، جبکہ S6ایج کی قیمت 1076(تقریباً 107600پاکستانی روپے) ڈالر ہوگی۔
          128جی بی S6کی قیمت 1076ڈالر (تقریباً 107600پاکستانی روپے)، جبکہ S6ایج کی قیمت 10189 (تقریباً 1018900پاکستانی روپے) ڈالر ہوگی۔
          یہ اطلاعات بھی ہیں کہ کمپنی نئی ٹیکنالوجی اور انداز والے S6ایج پر خصوصی توجہ دے رہی ہے اور ان کی تعداد کل پیداوار کا تقریباً 30فیصد ہوگی۔

          وہ سمند ر جو صحرا میں بدل گی

            تشکینت (مانیٹرنگ ڈیسک) ازبکستان اور قازقستان کے درمیان ایک زمانے میں موجودبحیرہ ارال خشک ہوکر صحرابن گیاتاہم بحیرہ ارال کے شمالی سرے پر بننے والے ڈیم سے مکینوں کو کچھ سہولیات ملی ہیں ۔ 
            برطانوی میڈیا کے مطابق ایک زمانے میں ارال کا سمندر صنعتی علاقہ اورخطے کی خوشحالی کا ضامن تھااور پورے سویت یونین میں ایسی مچھلیاں نہیں تھیں ، جوارال میں ملتی تھی ۔ایک بوڑھی خاتون نے بتایاکہ سوچاتھاکہ زندگی آہستہ آہستہ بہترہوگی ،ساٹھ کی دہائی سے اب تک اس سمندرکا نوے فیصد پانی ختم ہوچکاہے اور خشک تہہ سینکڑوں کلومیٹرتک دکھائی دیتی ہے اوراس پر جہازوں کے ڈھانچے دکھائی دیتے ہیں ۔

            بی بی سی کے مطابق سوویت یونین کے دورمیں جن دریاﺅں سے سمندر میں پانی آتاتھاان کا رخ کاشتکاری کی غرض سے بدل دیاگیا، ورلڈبنک کے تعاون سے بحیرہ ارال کے شمالی سرے پر ایک ڈیم تعمیر کیاگیاہے جو پانی سے بھرچکاہے لیکن سمندر واپس نہیں آیا۔ 
            ایک بزرگ شہری نے بتایاکہ نوے کی دہائی میں نوے گھر تھے جن میں صرف آٹھ گھر بچے تھے لیکن ڈیم بننے سے زندگی بہترہوگئی ،اب لوگ مچھلیاں پکڑنے بھی آجاتے ہیں ،امیدہے کہ بچوں کو نیا مستقبل دیکھنے کو ملے گا۔

            شارخ خان کی موجودگی میں ٹی وی شو کے سیٹ پر آگ لگ گئی

              نئی دلی(مانیٹرنگ ڈیسک)بھارتی ٹی وی پروگرام "انڈیا پوچھے گا سب سے شانا کون"کی شوٹنگ دوران شارخ خان اور انوشکا شرما سیٹ پر موجود تھے کہ اچانک آگ بھڑک اٹھی جس پر فوری قابو پا لیا گیا۔ایکسپریس کے مطابق شار خ خان اور انوشکا شرما شو کی شوٹنگ میں مصروف تھے کہ اچانک اس دوران سیٹ پر آگ بھڑک اٹھی جس کے فوری بعد تمام افراد بحفاظت وہاں سے نکل جانے میں کامیاب ہوگئے۔پولیس کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق آگ شاٹ سرکٹ کے باعث لگی جس میں تمام لوگ خوش قسمتی سے محفوظ رہے اور فائر بریگیڈ نے موقع پر پہنچ کر آگ پر فوری قابو پالیا۔

              اسلام نے برطانیہ میں شہری کو بڑی سزا سے بچا لیا

                لندن (نیوز ڈیسک) برطانیہ میں شراب نوشی کے بعد خطرناک ڈرائیونگ کرتے ہوئے تین مقامات پر حادثہ کرنے والے شخص کو عدالت نے اس انکشاف کے بعد باعزت بری کردیا ہے کہ وہ اب ایک اچھا مسلمان بن چکا ہے اور ایک پاک صاف اور ذمہ دارانہ زندگی گزاررہا ہے۔
                چالیس سالہ آصف مسعود نے نوٹنگم شہر میں غیر ذمہ دارانہ ڈرائیونگ کے دوران ایک واٹر ہائیڈرنٹ کو ٹکر ماری اور پھر ایک راﺅنڈ اباﺅٹ کے گرد دو جگہ پر ٹکرایا۔ یہ واقعہ گزشتہ سال نومبر میں پیش آیا۔ جب پولیس موقع پر پہنچی تو اس نے بتایا کہ وہ شدید نشے میں تھا اور اسے مدد کی ضرورت تھی۔ وہ اس سے پہلے بھی 9دفعہ سزا یافتہ تھا۔ تازہ ترین مقدمے کا سلسلہ جاری تھا کہ اب اس کے وکیل رابرٹ کیل نے عدالت کو بتایا کہ وہ اپنے مذہب اسلام کی طرف لوٹ آیا ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ اب شراب کو ہاتھ بھی نہیں لگاتا اور ایک صاف ستھری زندگی گزاررہا ہے۔ وکیل کا یہ بھی کہنا تھا کہ ملزم اب اپنے ماضی پر شرمندہ ہے اور اپنے دین اور نئی زندگی کے بارے میں نہایت سنجیدہ ہے۔ عدالت نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا اور توقع ظاہر کی کہ اب وہ ایک نیا انسان بن کر سامنے آئے گا اور اس کے ساتھ ہی اسے معاف کرتے ہوئے باعزت بری کردیا۔

                جدید تحقیق نے انرجی ڈرنکس کا پول کھول دیا،خبردار کر دیا، آپ بھی اگلی مرتبہ پینے سے پہلےیہ خبر پڑھ لیں

                  لندن (نیوز ڈیسک) انرجی ڈرنکس اور کولا ڈرنکس ہمارے اس قدر مقبول ہیں کہ اب یہ زندگی کا لازمی حصہ بن چکے ہیں مگر ترقی یافتہ ممالک میں ناصرف ان کے خطرناک نتائج کو بھانپ لیا گیا ہے بلکہ ان پر پابندی لگانے کے لئے بھی مہم کا آغاز کردیا گیا ہے۔
                  نوجوانوں اور نوعمر افراد کے لئے خاموش قاتل ثابت ہونے والے ان ڈرنکس کے خلاف مہم چلانے والے اداروں اور تنظیموں کا کہنا ہے کہ ایک عام انرجی ڈرنک کی بوتل میں 20 چمچ چینی سے بھی زیادہ میٹھا ہوتا ہے لیکن ان کا ذائقہ اس طرح سے تیار کیا جاتا ہے کہ پینے والے کو خطرے کے احساس کی بجائے محض لطف محسوس ہو۔ امریکا اور برطانیہ سمیت متعدد مغربی ممالک میں یہ تحریک چلائی جارہی ہے کہ 16 سال سے کم عمر افراد کو انرجی ڈرنکس اور اسی قسم کے دیگر سافٹ ڈرنکس بیچنا قانونی طور پر جرم قرار دیا جائے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ان مشروبات میں پائی جانے والی چینی کی خطرناک مقدار اور دیگر اجزاءموٹاپے، ذیا بیطس اور جنسی کمزوری سمیت درجن بھر بیماریوں کا سبب بن رہے ہیں۔ ان مشروبات پر پابندی لگوانے کے لئے ایکشن آن شوگر نامی خصوصی تحریک کا آغاز کیا گیا ہے جس کا مطالبہ ہے کہ راک سٹار، مانسٹر، ریڈ ڈیول سمیت ہر طرح کے انرجی ڈرنکس اور کولا ڈرنکس پر پابندی لگائی جائے اور خصوصاً سکولوں اور کالجوں کے قریب قریب بھی یہ مشروبات نظر نہیں آنے چاہئیں۔ حال ہی میں برطانیہ میں 197 سافٹ ڈرنکس کا تجزیہ کیا گیا اور ان میں سے 80فیصد سے زائد میں میٹھے کا لیول خطرے کی حد سے کئی گنا زیادہ پایا گیا۔ فوڈ سٹینڈرڈ ایجنسی گائیڈ لائن کے مطابق ان مشروبات کو خطرے کی سرخ لکیر سے کہیں اوپر پایا گیا۔خطرناک مشروبات کے خلاف مہم چلانے والے اداروں کا کہنا ہے کہ ان مشروبات کو نئے دور کا تمباکو قرار دیا گیا ہے جس کے نشے میں نوجوان نسل بری طرح غرق ہوکر اپنی زندگی تباہ کررہی ہے۔ نوعمر لوگوں کا مسئلہ اس لحاظ سے بھی زیادہ تشویشناک ہے کہ وہ انرجی ڈرنکس کو تعلیم اور کھیل کے میدان میں بہتر کارکردگی کا نسخہ سمجھ کر اس کا استعمال کررہے ہیں اور یہ نہیں جانتے کہ وہ اپنی صحت کو اپنے ہاتھوں تباہ کررہے ہیں۔
                  مغرب میں تو ان خطرناک مشروبات کے خلاف بیداری پیدا ہوچکی ہے اور ان پر پابندی لگوانے کی بھرپور کوشش بھی کی جارہی ہے مگر افسوسناک اور تشویشناک بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں ابھی بھی ان مشروبات کو فیشن اور جدت کی علامت سمجھا جاتا ہے اورلوگ خوشی اور فخر کے ساتھ انہیں استعمال کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں تاحال ان مشربات کے خطرات کے بارے میں بات بھی شروع نہیں ہوئی ہے جبکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ ان سے پیدا ہونے والی بیماریاں ہمارے معاشرے کو مکمل طور پر لپیٹ میں لے چکی ہیں اور یہ بھی حقیقت ہے کہ ہم نے اپنی آنکھیں مکمل طور پر بند کررکھی ہیں۔

                  شرافت سے بھی بے تحاشہ کمائی ممکن ہے ،سابق فحش اداکارہ نے ثابت کر دیا

                    لاس اینجلس (نیوز ڈیسک) یوٹیوب پر ننھے بچوں کی دلچسپی کی ویڈیوز پوسٹ کرنے والی ایک خاتون کی ویڈیوز اس قدر مقبول ہیں کہ انہیں اربوں بار دیکھا جاچکا ہے اور یہ پراسرار خاتون سالانہ 50 لاکھ روپے سے بھی زیادہ کماتی ہیں چونکہ یوٹیوب ویڈیوز میں کبھی بھی ان کا چہرہ نظر نہیں آیا اس لئے ہمیشہ سے ان کی شناخت ایک معمہ بنی رہی ہے۔ یہ ویڈیوز میں چھوٹی چھوٹی گڑیائیں ڈبوں سے نکال کر انہیں رنگ برنگے لباس پہناتی نظر آتی ہیں اور ننھی گڑیاﺅں پر تخلیقی فن کے مظاہرے کی وجہ سے بے پناہ مقبولی رکھتی ہیں۔
                    طویل گومگو کے بعد بالآخر ان خاتون کی شناخت سامنے آئی تو ساری دنیا حیران رہ گئی ہے۔ برطانوی جریدے ”میل آن لائن“ کا کہنا ہے کہ یہ ایک برازیل نژاد امریکی خاتون ہے جو سینڈی سمرز کے نام سے فحش فلموں کی مشہور اداکارہ رہ چکی ہیں جبکہ ان کا اصل نام ڈائین ڈی جیسیز ہے۔ یہ ایک عرصے سے ڈی سی کلیکٹر نامی ویڈیوز بنا کر یوٹیوب پر کروڑوں کما چکی ہیں۔ خاتون کے پرانے ہمسایوں نے ”میل آن لائن“ کو بتایا کہ وہ اس کی آواز اور جسم پر موجود نشانات کو پہچانتے ہیں کیونکہ وہ نہ صرف اسے اپنے ہمسایہ گھر میں دیکھ چکے ہیں بلکہ اس کی قابل اعتراض فلمیں بھی کئی دفعہ دیکھ چکے ہیں۔ 

                    یو ٹیوب کے بارے میں وہ باتیں جنہیں جان کر آپ کی حیرت کی انتہا نہیں رہے گی

                      نیویارک (نیوز ڈیسک) یوٹیوب کا شمار دنیا کی مقبول ترین ویب سائٹس میں ہوتا ہے اور ایک اندازے کے مطابق اسے روزانہ ایک ارب سے زائد لوگ استعمال کرتے ہیں مگر یہ حیرت کی بات ہے کہ صارفین کی اس قدر بڑی تعداد کے باوجود یہ ویب سائٹ کوئی منافع نہیں کما پا رہی ہے۔
                      تقریباً 9 سال قبل اس ویب سائٹ کو گوگل نے ایک ارب ستر کروڑ ڈالر (تقریباً ایک کھرب ستر ارب پاکستانی روپے) میں خریدا تھا اور آج تقریباً ایک دہائی گزرنے کے بعد اس ویب سائٹ کی آمدنی اور اخراجات تقریباً برابر ہو چکے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ منافع تقریباًصفر ہو گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یوٹیوب پر اکثریتی مواد بے معنی اور بے فائدہ ہے اور اس کے صارفین کی ایک بڑی تعداد نوعمر لوگوں پر مشتمل ہے جو ویب سائٹ پر دستیاب اشتہارات کے ذریعے کوئی خریداری نہیں کرتی ہے۔ 
                      ایک اور اہم مسئلہ یہ ہے کہ اس دیوہیکل ویب سائٹ کوچلانے کیلئے محیر العقول انفراسٹرکچر استعمال کیا جاتا ہے جس پر ہر سال تقریباً چار ارب ڈالر کا خرچ آتا ہے جو کہ اس کی آمدنی کے تقریباً برابر ہے۔ مشہور امریکی جریدے ”وال سٹریٹ جرنل“ میں شائع ہونے والی رپورٹ میں یوٹیوب کو درپیش مسائل کے علاوہ اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ لاکھوں کروڑوں صارفین رکھنے والے انٹرنیٹ کاروباری اداروں کو بھی منافع کمانے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ جریدے کا یہ بھی کہنا ہے کہ حالیہ سالوں میں بہت سی اور ویب سائٹیں یوٹیوب کے مقابلے پر آ گئی ہیں جن کی مقبولیت اس کیلئے بڑا خطرہ بن چکی ہے۔ یوٹیوب پر آنے والے صارفین کی ایک بڑی تعداد دیگر ویب سائٹوں سے بالواسطہ طور پر آتی ہے جبکہ دیگر ویب سائٹوں پر استعمال کی گئی یوٹیوب کی ویڈیوز کو بھی کثرت سے دیکھا جاتا ہے اور یہ بھی اس کی آمدنی میں کمی کی ایک بڑی وجہ ہے۔

                      Wednesday, 11 February 2015

                      دانت کے کیڑوں سے نجات حاصل کرنے کے قدرتی طریقے

                        لندن(نیوزڈیسک)آپ نے اکثر سنا ہوگا کہ جب ہم کھانا کھاتے ہیں اور دانت صاف نہیں کرتے تو کھانے کے اجزاءدانتوں میں رہ جاتے ہیں اور اس طرح دانتوں میں کیڑا لگنا شروع ہو جاتا ہے اور وہ سڑ جاتے ہیں۔ یہ نظریہ امریکی ماہر دندان نے پیش کیا تھا لیکن اب اس نظریے کو رد کیا جانے لگا ہے۔
                        ماہرین کا خیال ہے کہ دانتوں میں کیڑا لگنے کا تعلق ہماری روزمرہ کی خوارک سے ہے اور اگر ہماری خوراک میں غذائیت کم ہو تو دانتوں میں کیڑا لگنا یقینی ہے۔تحقیق کار ڈاکٹر ویسٹن پرائس کا کہنا ہے کہ اگر کھانے میں لحمیات، منرلز، وٹامن اور غذائیت کم ہو تو ہماری ہڈیاں اور دانت کمزور ہونا شروع ہوجاتے ہیں ۔خون میں کیلشیم اور فاسفورس کا تناسب خراب ہوجاتا ہے جبکہ بیکٹیریا ان کمزوریوں کی وجہ سے حملہ آور ہوتا ہے اور دانتوں میں کیڑا لگ جاتا ہے۔ڈاکٹر ویسٹن کا کہنا ہے کہ اگر دانتوں کے کیڑے سے نجات حاصل کرنی ہے تو ہمیں اپنی خوراک کی طرف توجہ دینی ہوگی ۔اس کا کہنا ہے کہ ہمیں اپنی روزانہ کی خوارک میں چند بنیادی تبدیلیاں کرنی ہوں گی یعنی کھانے میں ناریل کا تیل، گوشت،ڈیری،سی فوڈ کا استعمال کرے تو یہ بہت مفید ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ کلیجی، گردے کا استعمال بھی مفید ہے لیکن ساتھ ہی ایسی خوراک سے پرہیز کیا جائے جس سے گلوکوز براہ راست خون میں شامل ہو کہ اس طرح خون کا تناسب خراب ہوگا لہذا آٹا، لوبیا، دالیں وغیرہ کا استعمال کم کردیا جائے تو دانت بیکٹیریا سے محفوظ رہیں گے اور ان میں کیڑا بھی نہیں لگے گا۔

                        بیٹی سے شادی کے خواہشمند سعودی شہری سے باپ کا اسلام کے بارے میں انتہائی آسان سوال ،جواب نہ دے سکا تو ۔۔۔

                          ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) آج کے دور میں بیٹی کے لئے مناسب رشتہ ڈھونڈنے کے لئے اکثر والدین لڑکے کی مالی اور سماجی حیثیت کو ہی بنیادی ترین اہمیت دیتے ہیں مگر سعودی عرب میں ایک والد نے اپنی بیٹی کے لئے آنے والے ایک بہت اچھے رشتے کو ایک نہایت منفرد وجہ کی بنیاد پر فوری طور پر رد کردیا۔ شمال مغربی صوبے حائل سے تعلق رکھنے والے ان صاحب کے ہاں لڑکا اور اس کا والد ان کی بیٹی کے لئے رشتہ لے کر آئے۔ اخبار ”حائل این“ کے مطابق لڑکی کے والد نے لڑکے کی ملازمت اور مال و دولت کے بارے میں کوئی سوال نہ کیا بلکہ اس سے کہا کہ میں صرف ایک سوال پوچھوں گا اور اس کا درست جواب ملنے پر لڑکے کی طرف سے کسی بھی قسم کے اخراجات کے تحفے تحائف کے بغیر اس کی بیٹی رخصت کردوں گا۔
                          ان صاحب نے لڑکے سے پوچھا کہ براہ کرم یہ بتائیے کہ آج کل فجر کی نماز کا درست وقت کیا ہے؟ بدقسمتی سے لڑکے کو فجر کی نماز کا وقت درست طور پر معلوم نہ تھا اور اس نے اندازے کے مطابق کچھ وقت بتایا مگر یہ غلط تھا۔ لڑکی کے والد نے لڑکے اور اس کے والد سے فوری طور پر معذرت کرلی اور کہا کہ وہ اپنی بیٹی کا ہاتھ ایک ایسے شخص کے ہاتھ میں نہیں دے سکتے جس کے پاس دنیا جہاں کی معلومات ہیں مگر یہ معلوم نہیں کہ خدائے بزرگ و برتر نے صبح کا آغاز کرنے کے لئے اپنی بارگاہ میں حاضر ہونے کا کیا وقت مقرر فرما رکھا ہے۔

                          کراچی 2060 تک سمندر میں ڈوب جائے گا: سینیٹ کمیٹی میں انکشاف


                          اسلام آباد(قدرت نیوز)سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے سائنس وٹیکنالوجی کے اجلاس میں انکشاف کیاگیا ہے کہ کراچی کے علاقے ملیر کا کچھ حصہ سمندر کاحصہ بن چکا ہے۔ 2050 تک بدین اور ٹھٹھہ کے علاقے سمندرمیں شامل ہوجائیں گے جبکہ کراچی2060 تک سمندر میں ڈوب جائے گا، پچھلے 35سال کے دوران سندھ اور بلوچستان کے ساحلی علاقے کے2کلومیٹر تک سمندرکا حصہ بن چکے ہیں جبکہ سندھ کی 2لاکھ ایکڑ اراضی بھی سمندر میں ڈوب چکی ہے، بدین کے31ہزار ایکڑپر سمندر پھیل چکا ہے، ارکان کمیٹی نے سمندری سطح کا جائزہ لینے کے لیے پلان بنانے کی سفارش کردی۔ کمیٹی کا اجلاس پروفیسر ساجد میر کی زیرصدارت ہوا جس میں سمندری پانی کا دریائے سندھ زیریں علاقوں اوربلوچستان کے زیریںو ساحلی علاقوں میں داخل اوراس کے اثرات کاتفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ڈائریکٹر جنرل این آئی او ڈاکٹر آصف انعام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اقوام متحدہ کے ماحولیاتی ادارے اوراس کے علاقائی سمندروں کے پروگرام نے 1989 میں پاکستان کوسمندر کی سطح بلند ہونے والے ممالک میں شامل کیا ہے۔ این آئی او کی رپورٹ کی مطابق سطح سمندرایک سال میں 1.3 ملی میٹرکے حساب سے پاکستان میں بلندہوتی جارہی ہے جس کی وجہ سے ڈیلٹائی علاقے، نباتاتی، حیاتیاتی زندگی متاثر ہورہی ہے اور سندھ کے اطراف کی زمین سمندرمیں دھنس رہی ہے۔ اس بارے میں اعدادو شمار ہمارے پاس نہیں ہیں۔ سیکریٹری سائنس کامران علی قریشی نے کہاکہ یہ انتہائی اہم مسئلہ ہے۔ حکومت ایسالائحہ عمل اختیارکرے کہ ان مسائل کاتدارک کیا جاسکے۔

                          انسان کی شکل والے خنزیرنے تہلکہ مچا دیا ،دنیا کی توجہ کا مرکز

                            بیجنگ (نیوز ڈیسک) قدرت کی تخلیقات بعض اوقات اس صورت میں سامنے آتی ہیں کہ دیکھنے والے یک وقت حیرت اور خوف میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ چین کے ایک کسان کے گھر میں ایک ایسے سور کے بچے کی پیدائش ہوئی ہے کہ جس کا چہرہ بالکل انسانی چہرے کی مانند ہے اور اس کے ماتھے پر مخصوص عضو بھی ابھرا نظر آتا ہے۔ یہ واقعہ ناننگ شہر کے علاقہ یانان میں پیش آیا ہے اور اس کی خبریں مقامی میڈیا میں آنے کے بعد لوگوں کی بڑی تعداد نے کسان طاﺅلو کے گھر کا رخ کرلیا۔ طاﺅ کا کہنا ہے کہ اسے درجنوں فون کالز موصول ہوئی ہیں جس میں لوگوں نے اس عجیب و غریب جانور کو منہ مانگے داموں خریدنے کی پیشکش کی لیکن وہ مسلسل اسے بیچنے سے انکار کرتا رہا۔
                            اس کا خیال تھا کہ وہ اس کی نمائش لگائے گا اور ڈھیروں مال کمائے گا لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ چند گھنٹوں بعد ہی اس حیرت انگیز جانور کی موت ہوگئی۔ طاﺅ کا کہنا ہے کہ اب وہ سخت پچھتا رہا ہے کہ چند گھنٹے قبل وہ اسے منہ مانگے داموں بیچ کر خاصی رقم حاصل کرسکتا تھا مگر اس کے لالچ نے اب اسے مایوس و نامراد کردیا ہے۔

                            Tuesday, 10 February 2015

                            سکائپ نے اینڈرائڈ صارفین کیلئے نیا فیچر متعارف کرا دیا

                              لاہور (نیوز ڈیسک) مشہور ویڈیو کالنگ ایپلی کیشن سکائپ نے اینڈرائڈ سمارٹ فونز کے صارفین کیلئے نیا فیچرز متعارف کرا دیا ہے جس کے تحت اب کسی بھی ”آف لائن“ شخص کو تصاویر بھیجی جا سکیں گی۔ تفصیلات کے مطابق سکائپ کے اس نئے فیچر کے تحت اب کوئی بھی شخص اپنے ایسے دوستوں یا رشتہ داروں کو تصویری پیغام بھیج سکے گا جو آف لائن ہوں گے اور ان افراد کے آن لائن ہوتے ہی انہیں یہ پیغام موصول ہو جائے گا۔
                              کچھ ماہ قبل سکائپ نے سمارٹ فونز صارفین کیلئے ایک فیچر متعارف کرایا تھا جس کے تحت ویڈیو کالنگ کے دوران صارف ویڈیو کو بند کئے بغیر ہی کوئی بھی دوسری ایپلی کیشن استعمال کر سکتا ہے۔ بہت سے لوگوں نے اس فیچر کو پسند کیا تھا کیونکہ سمارٹ فونز پرسکائپ استعمال کرنے کے دوران بہت سے لوگ باقی ایپلی کیشنز کو بھی استعمال کرنا چاہتے تھے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سکائپ کا یہ نیا فیچر بہترین قدم ہے جسے متعارف کرا کر سکائپ دوسری آڈیو، ویڈیو کالنگ اور چیٹنگ کی سہولت دینے والی ایپلی کیشنز کا مقابلہ کر سکے گا۔

                              Saturday, 17 January 2015

                              جھوٹ پکڑنے کے طريقے


                              کئی لوگ جھوٹ بولتے ہیں۔ کچھ اپنے مفادکے لیے، کچھ مصلحت کے تحت اور کئی محض دوسروں کو پریشان کرکے لطف اٹھانے کے لیے۔ جھوٹ بڑی حیثیت رکھنے والے بھی بولتے ہیں اور عام افراد بھی۔ بڑے آدمی کے جھوٹ کا اکثر اوقات اس کے بولنے کے دوران ہی پتا چل جاتا ہے ، لیکن کوئی اسے کہہ نہیں سکتا۔ جب کہ چھوٹے آدمی کے جھوٹ پر عموماً کوئی دھیان نہیں دیتا۔
                              پنوکیو جب جھوٹ بولتا ہیتو اس کی ناک لمبی ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ پنوکیو کی کہانی دنیا بھر کے بچے پڑھتے ہیں اور اس کیترجمے اکثر زبانوں میں موجود ہیں۔ مگر دنیا میں جھوٹ پھر بھی بولاجاتا ہے اور ایسے افراد کم کم ہی ہوں گے جو یہ دعویٰ کرسکیں کہ انہوں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ ماسوائے ایک شخص کے۔
                              خلیل جبران نے اپنے ایک افسانے میں لکھاہے کہ میں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا، سوائے ایک جھوٹ کے کہ میں جھوٹ نہیں بولتا۔
                              کہتے ہیں کہ پہلا جھوٹ مشکل ہوتا ہے، دوسرے پر ہچکحاہٹ ہوتی ہے اور تیسرے جھوٹ پر ندامت یا پشمانی کا احساس نہیں ہوتا۔اور پھر انسان بڑے اعتماد سے جھوٹ بولنے لگتا ہے۔ لیکن ماہرین کا کہناہیکہ جس طرح بڑے سے بڑا مجرم اپنے پیچھے کوئی ایسی نشانی چھوڑ جاتا ہے جو اس تک پہنچنے میں مدد دیتی ہے اسی طرح ہر جھوٹے سے بھی کوئی ایسی حرکت ضرور سرزد ہوجاتی ہے جس سے شک کا دروازہ کھل جاتا ہے۔
                              ممکن ہے کہ آپ نے کبھی جھوٹ نہ بولا ہو مگرآپ کو ایسے بہت سے لوگوں سے واسطہ پڑا ہوگا جن کے جھوٹ سے آپ کے اعتماد کو ٹھیس پہنچی یا آپ کو نقصان اٹھانا پڑا۔ لیکن مستقبل میں آپ ایسے کسی نقصان سے بچ سکتے ہیں کیونکہ نفسیاتی ماہرین نے طویل تحقیق کے بعد جھوٹ پکڑنے کے چند طریقے ڈھونڈ لیے ہیں۔ یہ طریقے ایسے ہیں جن کے لیے آپ کوکسی مشین کی ضرورت ہے اور نہ ہی کسی لمبی چوڑی تحقیق کی۔
                              ماہرین کا کہناہے کسی شخص کی حرکات و سکنات کی بنا پر آسانی سے یہ تعین کیا جاسکتا ہے کہ آیا کہ وہ سچ بول رہاہے یا جھوٹ۔
                              ماہرین کے مطابق گفتگو کے دوران ہاتھ اور بازوں کی حرکت اور چہرے کے تاثرات سچ اور جھوٹ ظاہر کردیتے ہیں ۔کیونکہ جھوٹے شخص کے چہرے پر تنای ہوتا ہے اور ہاتھوں اور بازوں کی حرکت اس کی گفتگو کا ساتھ نہیں دے رہی ہوتی۔
                              جھوٹا شخص آنکھ ملاکر بات کرنے سے کتراتا ہے۔
                              جھوٹ بولنے والا غیر ارادی طور پر اپنے چہرے، گردن اور منہ پر ہاتھ پھیرتا رہتا ہے اور ناک یا کان کو کھجاتا نظر آتا ہے۔
                              کینیڈا کی برٹش کولمبیا یونیورسٹی کے ماہرین کا کہناہے کہ چہرے کے اعصاب یہ بتا دیتے ہیں کہ انسان سچ بول رہاہے یا جھوٹ۔
                              ڈاکٹر برنکے کہتے ہیں کہ آپ صرف مسکراہٹ دیکھ کر ہی یہ قیاس کرسکتے ہیں کہ آپ کا مخاطب سچ بول رہا ہے یا سچ کو چھپا رہا ہے۔ کیونکہ انسانی جذبات جھوٹ کاساتھ نہیں دیتے۔ اگر کوئی شخص اپنی گفتگو میں مسرت، دکھ یا محبت کا اظہار کررہاہو اور وہ اپنے اظہار میں سچا نہ ہوتو اس چہرے پر تاثرات تاخیر سے ظاہر ہوں گے اور اچانک غائب ہوجائیں گے۔ جب کہ سچے جذبات اظہار سے پہلے چہرے پر آجاتے ہیں اور دیر تک برقرار رہتے ہیں۔
                              جھوٹ بولنے والے کئی افراد اپنی باتوں کا یقین دلانے اور نارمل نظر آنے کے لیے مسکراہٹ کا سہارا لیتے ہیں۔ ڈاکٹر برنکے کہتے ہیں کہ حقیقی مسکراہٹ میں چہرے کے سارے اعصاب حصہ لیتے ہیں اوردیکھنے والے کو پورا چہرہ کھلا ہوا سا دکھائی دیتا ہے۔ سچی مسکراہٹ دیر تک قائم رہتی ہے اور آہستہ آہستہ تحلیل ہوتی ہے۔ جب کہ زبردستی کی مسکراہٹ صرف ہونٹوں اور اس کے آس پاس کے اعصاب تک محدود رہتی ہے۔ منصوعی مسکراہٹ کے دوران گال اور آنکھوں کی بھوئیں اپنی نارمل حالت میں رہتی ہیں۔
                              ڈاکٹر برنکے کی ٹیم نے اپنی تحقیق کے لیے 52 افراد کے چہروں کے تاثرات کا تفصیلی تجزیہ کیا اور ان کے چہروں کے23000 سے زیادہ ویڈیو فریم بنائے گئے۔ چہرے کے تاثرات کے معائنے نے 26 افراد کے جھوٹے ہونے کی نشاندہی کی۔ جب ماہرین نے ان سے منسلک حقائق کا جائزہ لیا تو ان کے جھوٹے ہونے کی تصدیق ہوگئی۔
                              ماہرین کا کہناہے کہ جھوٹا شخص گفتگو میں دفاعی انداز اپناتا ہے جب کہ سچے کا رویہ عموماً جارحانہ ہوتا ہے۔
                              جھوٹے سے اگر کچھ پوچھا جائے تو اس پر گھبراہٹ طاری ہوجاتی ہے، جسے وہ چھپانے کے لیے اپنے سراور گردن کو بار بار حرکت دیتا ہے۔
                              ماہرین کا کہناہے کہ کئی غیر شعوری حرکتوں سے بھی جھوٹ کی نشاندہی ہوتی ہے۔ مثال کے طورپر اگر جھوٹ بولنے والا آپ کے سامنے بیٹھا ہے تو وہ بات کرتے ہوئے غیر ارادی طور پر اپنے سامنے رکھی ہوئی کوئی چیز اٹھا کر اپنے اور آپ کے درمیا ن رکھ لے گا۔ وہ یہ عمل لاشعوری طورپر خودکو محفوظ بنانے کے لیے کرتا ہے۔
                              اگر جھوٹے سے کوئی سوال کیا جائے تو وہ جواب میں غیر ارادی طورپر سوال کے ہی کچھ لفظ دوہرا دیتا ہے۔
                              اکثر جھوٹ بولنے والے صاف کہنے کی بجائے بات کوگھمانے اور الجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔
                              یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جھوٹا انسان ایک نارمل شخص سے زیادہ بولتا ہے اور غیر ضروری اور غیر متعلقہ تفصیلات بیان کرتا ہے ۔ وہ خاموش ہونے سے اس لیے ڈرتا ہے کہ کہیں کوئی ایسا سوال نہ پوچھ لیا جائے، جس سے اس کا جھوٹ پکڑا جائے۔
                              جھوٹ پکڑنے کے طریقے
                              ایک کہاوت ہے کہ ایک جھوٹ کو چھپانے کے لیے کئی جھوٹ بولنے پڑتے ہیں۔ مگر جھوٹا شخص کئی جھوٹ بولنیکے بعد اس لیے پکڑا جاتا ہے کیونکہ اسے یاد ہی نہیں رہتا کہ وہ پہلے کیا کچھ کہہ چکاہے۔
                              یہ جاننے کے لیے کہ آیا آپ کا مخاطب جھوٹ تو نہیں بول رہا، فوراً گفتگو کا موضوع تبدیل کردیں۔ اگر وہ سکون اور اطمینان محسوس کرے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ جھوٹ بول رہاتھا۔ جب کہ سچا شخص اچانک موضوع بدلنے سے پریشان ہوجاتا ہے اور مختلف حیلوں بہانوں سے آپ کو اصل موضوع پر لے جانے کی کوشش کرتا ہے۔
                              نفسیاتی ماہرین کا کہناہے کہ بعض افراد کے اعصاب اتنے مضبوط ہوتے ہیں کہ وہ اپنا جھوٹ ظاہر نہیں ہونے دیتے۔ اور بعض اوقات سچ بولنے والا اتنی گھبراہٹ کا شکار ہوجاتا ہے کہ اس کا سچ بھی جھوٹ لگنے لگتا ہے۔ چنانچہ بعض افراد کے معاملے میں کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے کے لیے صرف قیافہ شناسی ہی کافی نہیں ہوتی بلکہ ٹھوس شواہد بھی درکار ہوتے ہیں۔

                              Tuesday, 13 January 2015

                              Anti-Rape Pants India's New Strategy To Stop Rape



                              Anti-Rape Pants India's New Strategy To Stop Rape, Anti-Rape Pants India's New Strategy To Stop Rape, Anti-Rape Pants India's New Strategy To Stop Rape



                               

                              Copyright @ 2013 Wattoo Into Pc.